اشتہار

ڈبلیو ٹی سی فائنل : اہم مواقع پر اسٹار کھلاڑیوں کے مظاہرے کامیابی اور شکست کا فرق بنے

ہندوستان کو ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی ) کے متواتر دوسرے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہندوستان کی اس شکست نہ جہاں ٹیم کے آئی سی سی ایونٹ میں خطاب جیتنے کے 10 سال سے زیادہ کے قحط کو مزید طویل کردیا ہے وہیں کروڑہا ہندوستانی شائقین کو پھر مایوس کردیا ہے ۔آئی سی سی کے دوسالہ ٹسٹ سرکل میں آسٹریلیا نے کئی مشکلات کے باوجود ایک جامع کامیابی حاصل کی تو دوسری جانب ہندوستان جس نے افتتاحی ایڈیشن میں بھی فائنل میں رسائی حاصل کی تھی جہاں اسے نیوزی لینڈ کے خلاف 8 وکٹوں کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

ویراٹ کوہلی کی قیادت ہو کہ اس کے بعد روہت شرما کی قیادت ہندوستانی ٹسٹ ٹیم کا فائنل میں کپتان بدلا لیکن ٹیم کی قسمت نہیں بدلی ، آخر فائنل میں وہ کیا ہوا جس کی وجہ سے ہندوستان دوسری مرتبہ بھی فائنل میں مایوس ہوگیا۔

فائنل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو شکست کے جو بڑے اسباب سامنے آتے ہیں وہ وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔

پلینگ الیون کے انتخاب میں غیر یقینی صورت حال :

اہم فائنل سے قبل آخری لمحات تک بھی ہندوستان یہ صورت حال واضح کرنے سے قاصر رہا کہ ٹسٹ کے موجودہ نمبر ایک بولر روی چندر اشون قطعی 11 کھلاڑیوں میں ہوں گے یا نہیں ، آخر کار اشون کو میدان میں اترنے والی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا جس پر دونوں ممالک کے سابق کھلاڑیوں نے شدید تنقید کی ۔ دوسری جانب آسٹریلیائی ٹیم فائنل کے لئے اپنے فائنل 11 کھلاڑیوں کے تعلق سے واضح ذہن رکھتی تھی  جس نے اپنی ایک مستقل اسپنر نیتھن لیون  کا مقام برقرار رکھا جبکہ ہندوستان کے دورہ پر شامل آل راؤنڈر کیمرون گرین   کو ٹیم میں برقرار رکھنے کے علاوہ فائنل کے لئے ہندوستان کا دورہ کرنے والی ٹیم کے اسپنرس کی جگہ  فاسٹ بولر اسکاٹ بولانڈ طلب کیا جنہوں نے اہم مواقع پر ہندوستان کی اہم وکٹیں حاصل کی ۔

 اومیش یادو بمقابلہ بولانڈ:

فائنل کےلئے انگلینڈ کے مقام اوول کا رخ کرنے سے قبل ہندوستان اور آسٹریلیائی ٹیموں کے درمیان ہندوستان میں 4 ٹسٹ مقابلوں کی سیریز ہوئی تھی جہاں بھلے ہی ہندوستان کا پلڑا بھاری رہا لیکن فائنل کے شروع ہونے سے قبل دونوں ٹیموں کی صف بندی میں دوفاسٹ بولر توجہ کا مرکز تھے چونکہ ہندوستان کی وکٹوں کی بہ نسبت اوول کی وکٹ فاسٹ بولروں کے لئے ساز گار تھی ، اس وجہ سے ہندوستان نے جہاں اومیش یادوں کا موقع دیا وہیں آسٹریلیا کے صف میں بولانڈ نمودار ہوئے ۔

اومیش جہاں ہندوستان کےلئے صرف بھرتی ثابت ہوئے وہیں بولانڈ حریف ٹیم کے لئے ایکس فیکٹر بن کر ابھرے ۔ اومیش یادو پہلی اننگز میں جہاں 23 اوورس کی بولنگ کی اور 77 رنز دئے وہیں وہ وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ،حالانکہ روہت شرما نے ابرآلود موسم کے پیش نظر ٹاس جیت کربولروں کےلئے سازگار ماحول میں فیلڈینگ کا فیصلہ کیا ۔دوسری جانب بولانڈ نے پہلی اننگز میں 20 اوورس میں 59 رنز دیکر 2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ۔    بولانڈ نے اننگز کے ابتداء میں ہی آئی پی ایل میں اپنے بیٹ سے رنز کی آگ اگلنے والے نوجوان بیٹر شبمن گل کو بولڈ کرتے ہوئے جہاں ہندوستانی خیمہ میں بڑی کاری ضرب لگائی وہیں اس وکٹ کے نقصان نے ہندوستان کی شکست کی بیناد تیار کی ، کیونکہ اگر گل آئی پی ایل کے مظاہروں کے سلسلہ کو نصف سنچری یا سنچری میں یہاں تبدیل کرتے تو ہندوستان کے دیگر بیٹرس کےلئے حالات سازگار ہوتے لیکن بولانڈ کی اس وکٹ نے ہندوستان کو بڑا نقصان پہنچایا۔اومیش مقابلہ بولانڈ کے شعبہ میں ہندوستان کو بڑا نقصان ہوا۔شاید ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل کی تاریخ میں بولانڈ کا اوور سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ انہوں اہم موقع پر جب کوہلی اور راہانے بڑی پارٹنر شپ کی طرف آگے بڑھنے کے علاوہ آسٹریلیا کی کامیاب کے امکانات کو بے رنگ کررہے تھے انہوں نے کوہلی اور پھر دوگیندوں بعد ایک اور قابل اعتماد رویندر جڈیجہ کو صفر پر آوٹ کیا جس کے بعد جہاں ہندوستان کی یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے لگی تو دوسری جانب آسٹریلیا کامیابی کی سمت تیزی سے قدم بڑھانے لگی ۔

 اہم موقع پر بڑے کھلاڑیوں کے مظاہرے :

ٹسٹ میچ میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں جہاں ٹیموں میں موجود دنیا کے بڑے کھلاڑیوں کے مظاہروں کلیدی اور مقابلے کا نتیجہ بدلنے والے ثابت ہوتے ہیں اور ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایسے مواقع آئے جب دنیا بھر کے شائقین کی نظریں ویراٹ کوہلی اور اسٹیو اسمتھ پر ٹکی رہی ۔

پہلی اننگز میں عثمان خواجہ کے صفر اور ڈیویڈ وارنر کی کچھ مزاحمت کے بعد آوٹ ہونے اور آسٹریلیائی ٹیم جب  71/2 کی نازک صورت حال سے گزررہی تھی تب اسٹیو اسمتھ 121 رنز کی شاندار سنچری اسکور کی۔سنچری کے علاوہ انہوں نے مین آف دی میچ ٹریوس ہیڈ (163) کے ساتھ مل کر چوتھی  وکٹ کےلئے       285 رنز کی پارٹنر شپ نبھائی جوایک معنی میں ٹیم کی کامیابی کی بنیاد ثابت ہوئی ۔

آسٹریلیا کےلئے جہاں اسمتھ اہم موقع پر ہیروثابت ہوئے وہیں ویراٹ کوہلی نے مایوس کیا ۔پہلی اننگز میں جب ہندوستان مشکل وقت میں تھا تو ویراٹ نے صرف 14 رنز بنائے ۔دوسری اننگز میں جہاں ہندوستان کے سر پر شکست کے بادل منڈلارہے تھے تو ویراٹ کوہلی اپنی اسی کمزوری کو قابو نہ کرسکے جہاں حریف بولرس انہیں آف اسٹمپ کے باہر گیند ڈال کرآوٹ کرتے ہیں۔فائنل کا مشاہدے کرنے والوں نے دکھا کہ کوہلی نے کس طرح جسم سے دور ایک ایسا اسٹروک کھیلا جو حالات کے اعتبار سے خودکشی قراردیا جاسکتا ہے ۔ اس موقع پر اسمتھ نے سلپ میں ایک شاندار کیچ پکڑ کر ہندوستان کی تمام امیدوں پر آخری کیل گاڑھ دی۔

اس کے علاوہ روہت شرما اور چیٹشور پچارا بھی اہم مواقع پر ناکام رہے تو دوسری جانب ہیڈ ، وکٹ کیپر الیکس کیری آسٹریلیا کےلئے اہم مواقع پر کلیدی رول ادا کیا ۔کسی بھی ٹسٹ کی چوتھی اننگز میں اسپنرس کا کردار اہم ہوتا ہے اوریہاں بھی لیون نے باری ماری کیونکہ انہوں نے جب آسٹریلیا کو پانچویں دن کھیل کے وقت سے قبل وکٹوں کی ضرورت تو انہوں نے 4 وکٹیں حاصل کی ۔


ٹھاکر کی بیان بازی ،زخموں پر نمک :

فائنل میں ہندوستانی ٹیم کے حالات خراب ہونے اور کامیابی کےلئے ہمالیائی اسکور کے ملنے کے امکانات کے دوران  مقابلے کے تیسرے دن  ہندوستانی ٹیم نے نوجوان آل راؤنڈر شردول ٹھاکر نے ایسا بیان دیا جس نے شائقین کو کافی مایوس کیا ۔اوول میدان کی تاریخ اور موجودہ وکٹ پر جہاں 300 رنز کے تعاقب کو ایک مشکل ترین نشانہ تصور کیا جارہا تھا اس وقت شردول نے بیان بازی کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ٹیم 450 یا اس سے زیادہ رنز کا بھی تعاقب کرے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے