آج کا دور ٹکنالوجی کا دور ہے۔بچے ،بڑے ،بزگ ،مرد وخواتین
ہر کسی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون موجود ہے جبکہ دفاتر میں کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ کے
بغیر کام کی انجام دہی کا تصوربھی محال ہے لیکن اس کے باوجود اردو داں طبقہ کی
اکثریت اس لفظ ‘‘ سائبر
’’ سے ہی واقف نہیں حالانکہ کمپپوٹر (جدید ترین شکل اسمارٹ فون) اورانٹرنیٹ
کو جوڑنے سے جو ٹکنالوجی وجود میں آتی ہے وہی دراصل سائبر ٹکنالوجی ہے ۔
سائبر ٹکنالوجی آج ہماری زندگی کا ایک اہم جز بن چکی ہے
اور اردو ہماری مادری زبان ہونے کی وجہ سے ہم اس ٹکنالوجی کی عامعلومات سے لیکر تکنیکی مہارت کے حصول تک کی کوشش کرتے ہیں
۔ہماری اس کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ سائبر ٹکنالوجی یا سائبر دنیا کی معلومات اور
مواد کا اردو میں دستیاب نہ ہونا ہے اور اس رکاوٹ کو حتی المقدور دور کرنے کی ایک ادنیٰ
سی کوشش یہ ویب سائٹ ‘‘ سائبر دنیا ’’ ہے ۔ ڈاکٹر احتشام الحسن آپ تمام کا اس ویب سائٹ پر تہہ دل سے خیر مقدم
کرتا ہے ۔
اس ویب سائٹ کو متعارف کرنے کا اصل مقصد سائبر ٹکنالوجی کی تازہ ترین تفصیلات کے ساتھ اس سائبر عہد میں سائبر اردو ، سائبر اردو رسم
الخط ،سائبر اردو ادب اورسائبر صحافت کی
تفصیلات اردو داں طبقہ تک آسان لیکن معیاری اردو میں فراہم کرنا ہے۔
اس ویب سائٹ کا تعلق ہندوستان کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے
دارالحکومت حیدرآباد سے ہے ۔ حیدرآباداور
اردو کا تعلق چولی دامن کا ہے جبکہ راقم الحروف ڈاکٹر محمد احتثام الحسن نے چونکہ
اپنی پی ایچ ڈی تحقیق عثمانیہ یونیورسٹی
سے بعنوان ‘‘سائبر ٹکنالوجی کا اردو ادب
اور صحافت میں استعمال ’’ کے تحت مکمل کی
ہے اور گزشتہ ایک دہے سے بھی زیادہ عرصہ
سے اردو صحافت سے وابستہ ہے لہذا پی ایچ ڈی کے دوران کی جانے سائبر تحقیق
اور صحافت کے وسیع تجربے کو اس ویب سائٹ
‘‘ سائبر دنیا ’’ کے صارفین کی خدمات میں
پیش کرنا بھی اس ویب سائٹ کا مقصد ہے تاکہ ہر اردوصارف کوسائبرٹکنالوجی کی تمام تر تفصیلات آسانی سے
مل جائے ۔
ویسے تو ‘‘ سائبر اردو
’’ کے نام سے چند ماہ قبل ایک اور ویب سائٹ متعارف کرنے کی کوشش کی تھی
لیکن ویب سائٹ سے سوشل میڈیا پر مواد کی
اشاعت کے وقت کچھ تکنیکی رکاوٹیں حائل ہوئی تھیں تو اُس کوشش کو وہیں روک دیا گیا
لیکن 6 ڈسمبر 2019 کو سائبر دنیا کے نام سے یہ ویب سائٹ آن لائن متحرک
کردی گئی ہے ۔
اس ویب سائٹ پر جن عنوانات کےتحت مضامین فراہم کئے جارہے
ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1- سائبر ٹکنالوجی :
اس عنوان کے تحت کمپیوٹر ز، اسمارٹ فونس اور انٹرنیٹ کی معلومات،نت نئی ترقی ،مسائل
اور امکانات سے صارفین کو واقف کروانے کی کوشش کی جائے گی۔
2- سائبر اردو : آج چونکہ اردو ورق سے برق یعنی کتابی اوراق سے ترقی
کرتے ہوئے کمپیوٹر اور فون کے اسکرین تک رسائی حاصل کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود اردو کو اسکرین پر تحریر کرنے
اور انٹرنیٹ پر موجود اردو کو اپنے موبائل
اور کمپیوٹر پرمطالعہ میں کئی دشواریاں اور مسائل موجود ہیں لہذا اس زمرے کے تحت
سائبر اردو کے مسائل اور امکانات کے ضمن میں مضامین فراہم کئے جائیں گے ۔
3- سائبر ادب۔ اردو زبان اب جبکہ ورق سے برق تک رسائی حاصل کرچکی ہے تو پھر اقبال
ؔ ، غالب ؔ، میر ؔ ، مومن ؔ اور دیگرشعرا٫
کے مطالعہ کے علاوہ نظم ونثر ،تحقیق وتنقید کے علاوہ اشعار کی تقطیع تک کمپیوٹر
اور انٹرنیٹ کی مدد سے کی جارہی ہے لہذا اس سائبر ادب کے عنوان کے تحت اردو ادب کو
سائبر ادب کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
4- سائبر صحافت : آج اخبار کا قاری اپنے موبائل پر متعدد
زبانوں کے کئی اخبارات کا صبح صبح مطالعہ کرتاہے ،آن لائن ایڈیشن ،ای پیپر کے
علاوہ خبروں کی حصول وترسیل میں سوشل میڈیا بھی آج ہماری زندگی کا
ایک اہم حصہ بن چکا ہے لہذا اس عنوان کے تحت سائبر صحافت اور خاص کر اردو سائبر
صحافت کا احاطہ کیا جائے گا۔
5- متفرقات: چونکہ راقم الحروف کا تعلق صحافت سے ہے اور حالات حاضرہ کی تقریباً تمام تر اہم خبروں سے
واقفت کام کا ایک حصہ ہے لہذا اہم سیاسی ،
سماجی ، معاشی ،اخلاقی ،معاشرتی ،اسپورٹس اور
زندگی کے دیگر شعبوں میں عوام کے احساسات کی ترجمانی کرتے موضوعات کو قلم بند کرنا
مزاج میں شامل ہے اور درجنوں مضامین پہلےہی ہندوستان کے علاوہ پڑوسی ملک کے اخبارات میں
شائع ہوچکے ہیں اس تناظر میں اس عنوان ‘‘ متفرقات
’’ میں ان مضامین کو جگہ دینے کا فیصلہ
کیا گیا ہے۔
0 تبصرے