ہندوستان میںاس وقت شہریت ترمیمی بل کے خلاف شدید احتجاج کیا جارہا ہے جو کئی ریاستوں میں پرتشدد شکل اختیار کرچکاہے ۔ برہم عوام کو روکنے کےلئے جب پولیس کی جانب سے طاقت کیا استعمال کیا جانے لگا تو حالات کشیدہ ہونے لگے جس کے بعد حکام نے کرفیو کے ساتھ انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی ہے تاکہ سوشل میڈیا پر قابو پاتے ہوئے حالات کو پرامن رکھا جاسکے لیکن ان کی کشیدہ حالات میں فیس بک کی جانب سے جو حالیہ اعتراف سامنے آیا ہے وہ ہندوستان بھر کے فیس بک صارفین کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی جو فیس بک استعمال کررہا ہے اس کےلئے تشویش ناک ہے کیونکہ فیس بک پر لیوکشن (صارف کے موجودہ مقام) کی سہولت کو بند کرنے کے باوجود اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔
فیس بک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس وقت بھی اپنے صارفین کی لوکیشن پر نظر رکھتا ہے جب اس کی جانب سے ٹریکنگ سروسز کو بند کردیا جاتا ہے۔امریکی سینیٹرز کے ایک خط کے جواب میں فیس بک نے بتایا کہ صارفین کا لوکیشن ڈیٹا مختلف مقاصد جیسے اشتہارات دکھانے، نیوز فیڈ پر مواد اور سیفٹی چیک وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
فیس بک نے انکشاف کیا ہے کہ اگر صارف کی جانب سے لوکیشن سروسز کو بند بھی کردیا جاتا ہے تو بھی صارف کہاں موجود ہے اسکے متعلق تفصیلات کو جمع کیا جاتا ہے اور ایسا آئی پی ایڈریس سے ممکن ہوتا ہے۔کمپنی نے مزید کا ہے کہ ایسے حالات میں مقام کی تفصیلات آئی پی ایڈریس یا دیگر نیٹ ورک انفرمیشن کی مدد سے حاصل کی جاتی ہیں۔
کمپنی نے اعتراف کیا کہ اس طرح کا ڈیٹا کئی بار غلط بھی ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر ایک موبائل کو وائرلیس کیرئیر سے ملنے والا آئی پی ایڈریس صرف شہر یا اس علاقے کا مقام بتائے گا جہاں یہ آلہ (اسمارٹ فون ) نیٹ ورک سے مربوط ہوا جبکہ کسی کمپنی کے نیٹ ورک سے جڑے کمپیوٹر کا آئی پی ایڈریس بزنس آفسز سے منسلک ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آئی پی ایڈریسز سے لوکیشن ڈیٹا میں غلطی کا امکان ہوتا ہے-
لیکن کمپنی نے یہ بھی کہا کہ آئی پی ایڈریس سے یہ ضرور اندازہ ہوجاتا ہے کہ صارف کس علاقے یا شہر میں ہے۔خیال رہے کہ فیس بک کو اکثر صارفین کی پرائیویسی کے معاملات میں عمل دخل کرنے پر تنقید کا سامنا رہتا ہے خصوصاً کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے بعد سے اس کے خلاف کئی ممالک میں اقدامات بھی کیے گئے۔ مارک زکربرگ کو امریکہ اور یورپی قانون سازوں کے سامنے پیش ہوکر سوالات کا جواب دینا پڑا جبکہ جرمانوں کا بھی سامنا ہوا۔
0 تبصرے