چینی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زمین کے اندرونی مدار نے اپنی گردش بند کردی ہے اور وہ سمت بدل رہا ہے؟
چین کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زمین کا اندرونی
حصہ گزشتہ دہے
میں گھومنا بند کر دیا تھا اور اب ہوسکتا ہے کہ وہ مخالف سمت میں گھوم رہا
ہو۔ نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں زلزلوں سے آنے والی
لہروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے زمین کے اندرونی حصوں کو دیکھا گیا ہے ۔ زلزلوں سے
اگرچہ زمین کی سطح بہت کچھ بدل جاتا ہے
لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ وقفہ وقفہ سے
گردش کرہ ارض کی تبدیلی زندگی کے لیے
خطرات پیدا نہیں کرے گی۔
ہم جس سیارے پر
موجود ہیں اس کی سطح کے نیچے ہونے والی حرکات کو محسوس نہیں
کرتے جب تک کہ ہم زلزلے یا آتش فشاں دھماکے کی شکل میں پرتشدد گھومنے یا کچلنے
والی حرکات کا سامنا نہ کرلیں ۔ ایک نئی تحقیق میں اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ
زمین کے اندرونی حصے نے حال ہی میں گھومنا بند کر دیا ہے اور پھر اس کے گھماؤ کی
سمت کو دوسری یا مخالف سمت میں تبدیل کر دیا ہے۔
نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا
ہے کہ عالمی سطح پر مستقل مزاجی سے پتہ چلتا ہے کہ اندرونی کور ( مدار ) کی گردش حال ہی میں رک گئی ۔ گردش 2009 میں
رک گئی اور پھر یہ حیرت انگیز طور پر مخالف سمت میں مڑ گئی۔محققین کا طویل عرصے سے
یہ ماننا ہے کہ اندرونی کور زمین کی سطح کے مقابلے میں، آگے پیچھے، جھولے کی طرح
گھومتا ہے۔
جھولے کا ایک چکر تقریباً سات دہوں پر مشتمل ہوتا ہےاور
یہ تقریباً ہر 35 سال بعد سمت بدلتا ہے۔
اس سے پہلے 1970 کی دہے کے اوائل میں اس
نے سمت تبدیل کی تھی اور اس نے پیش قیاسی کی گئی تھی کہ اگلا چکر 2040 کے دہے کے وسط میں ہوگا۔
زمین کا اندرونی حصہ کیا ہے؟
زمین کی تہوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: کرسٹ،
مینٹل اور کور۔
زمین کا اندرونی حصہ پہلی بار 1936 میں دریافت ہوا تھا
جب محققین زلزلوں سے آنے والی لہروں کا مطالعہ کر رہے تھے جو پورے سیارے میں سفر
کرتی ہیں۔ یہ لہروں میں تبدیلی تھی جس نے زمین کا مرکز ظاہر کیا، جو تقریباً
7000 کلومیٹر چوڑا ہے اور مائع لوہے کے خول کے اندر لپٹے ہوئے لوہے کے ٹھوس مرکز
سے بنا ہے۔
نیچر میں 1996 کے ایک مطالعہ نے انکشاف کیا کہ زلزلہ کی
لہروں کے سفر کے اوقات جو زمین کے اندرونی مرکز سے گزرتے ہیں، گزشتہ تین دہائیوں
میں ایک چھوٹا لیکن منظم تغیر ظاہر کرتے ہیں۔ اس تغیر کی بہترین وضاحت
اندرونی کور کی گردش سے ہوتی ہے اور گردش کی شرح مینٹل اور کرسٹ کی روزانہ کی گردش
سے 1° فی سال کے آرڈر پر ہوتی ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی کی ٹیم نے زیادہ تر 1995 اور 2021 کے
درمیان آنے والے زلزلوں کا تجزیہ کیا اور تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی کہ 2009 کے آس
پاس کسی وقت کور نے گھومنا بند کر دیا تھا اور ہو سکتا ہے کہ وہ گھومنے کی سمت
تبدیل کرنے کے عمل میں ہو۔
اب کیا ہوگا ؟
محققین نے کہا ہے کہ کور کی گردش کا تعلق دن کی طوالت
میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہے اور یہ زمین کو اپنے محور پر گردش کرنے کے عین وقت
میں چھوٹے تغیرات کا باعث بن سکتا ہے اور یہ کہ زمین کی مختلف تہوں کرسٹ، مینٹل اور کور کے درمیان روابط ہیں۔
محققین کی ٹیم
نے کہا کہ مشاہدات زمین کی تہوں کے درمیان متحرک تعامل کا ثبوت فراہم کرتے ہیں،
گہرے اندرونی حصے سے سطح تک، ممکنہ طور پر کشش ثقل کے جوڑے اور کور اور مینٹل سے
سطح تک کونیی رفتار کے تبادلے کی وجہ سے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ ہمارا مطالعہ کچھ محققین کو ایسے ماڈلز
بنانے اور جانچنے کی ترغیب دے سکتا ہے جو پوری زمین کو ایک مربوط متحرک نظام کے
طور پر مانتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ
گھومنے میں تبدیلی اس سیارے کی سطح پر رہنے والے لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس خبر نے ہمیں سورج کا مغرب سے طلوع ہونا کی قیامت کی
سب سے بڑی نشانی کی طرف توجہ مبذول کردی ہے کیونکہ چینی سامحققین کی بات سے یہ ظاہر
ہوتا ہے کہ زمین شاید جلد ہی اپنے گھومنے کی سمت تبدیل کرے گی جس کے بعد سورج مشرق
کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور قیامت کی یہ نشانی بھی پوری ہوجائے گی ۔
0 تبصرے