اشتہار

کیا آپ مارڈن ہیں یا عقلمند ؟



جب ہم ہمارے اسکول ضیاء الاسلام میں زیر تعلیم تھے تو کمرہ جماعت کی ایک دیوار پر ایک قول زرین ‘‘ تندرستی ہزار نعمت ’’ تحریر تھا لیکن اس چھوٹی عمر میں نہ تندرستی کا علم تھا اور نہ ہی کسی نعمت کا اندازہ تھا بلکہ بےفکر بچپن میں مگن صرف استاد کی جانب سے صادر کئے جانے والے حکم کی تعمیل ہی واحد مقصد اور واحد راستہ تھا جس سے بھٹک کر ہم کہیں جانےکو مستقبل  کا  نقصان مانتے تھے ۔

تندرستی  کا اندازہ تو کورونا عہد میں سمجھ میں آیا ، چین سے پھیلنے والے وائرس نے زندگی کو بیماری  اور خوف کے ایسے بھنور میں لا کھڑا کردیا کہ ہر کسی کو موت آنکھوں کے سامنے رقص کرتی دیکھائی دینے لگی ۔ایک جانب کورونا  لا علاج بیماری رہی تو دوسری جانب اس کے خلاف صحت کومضبوط بنانے کی سفارشیں ،مشورے اورہدایات آئے دن سامنے آنے لگی تو پھر ہمیں اسکول کے کمرے جماعت میں موجود وہ وہ چھوٹی سی تحریر یاد آنے لگی لیکن گزشتہ چند دنوں سے اس تحریر نے ذہن کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک بےچینی پیداکردی ہے ،کیونکہ ایک جانب آج زمانے  نے  اتنی ترقی کرلی ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے تو دوسری جانب حضرات انسان خود کو مارڈن ظاہر کرنے کا کوئی  موقع ہاتھ سے  جانے نہیں دیتا لیکن اکثر افراد کے کھانے پینے کی عادات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے ،یہ لوگ خود کو ماڈرن ظاہر کرنے کی جھوٹی شان میں اپنی صحت کو دونوں ہاتھوں سے برباد کررہے ہیں۔



ویسے تو شریعت نے ہمیشہ ہی صحت اور اسکی دیکھ بھا ل کو اہمیت دی ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ٰ کو ایک کمزور مومن سے زیادہ طاقتور مومن پسند ہے جبکہ قرآن حکیم میں غذائی اشیاء کےلئے صرف تین جملوں میں واضح ہدایت  دی گئی ہے ۔ارشادِ خداوندی ہےکھاؤ، پیو اوراس میں حد سے آگے نہ بڑھو۔ (الاعراف:31)۔یہ تینوں وہ مسلمہ اصول ہیں جن میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ،کھانا پینا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا  لیکن ماڈرن بننے کی کوشش میں ان غذاؤں سے پیٹ کے گودام کو بھرا جارہا ہے جو صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں  ۔امریکہ اور یوروپ کے کئی بڑے ممالک جن کی آج طوطی بولتی ہے  ، ان ممالک کے شعبہ طب نے  جن غذاؤں کو کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی وجہ بتائی ہے ان ہی غذاؤوں کو استعمال کرتے ہوئے ہم  خود کو مارڈن بتانے کی کوشش کررہے ہیں اور جنک فوڈ  کھانے کا یہ فیشن خود کو مارڈن ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ تصور کیا جارہے ۔

پیزا ، برگر، نوڈولس،بازار میں ملنے والی تلی ہوئی چیزیں ،بیکری کی غذائیں ، آلو کے چپس ، آئس کریم ،پانی پوری اور اس بنڈی پر ملنے والی اشیاء،کینڈی بارز،گولڈ ڈرنگس  جس میں کوکا کولا اور پپسی سرفہرست ہیں  ان سب چیزوں کو کھانے میں ایک شان  ماننے کے علاوہ خود کو ماڈرن تصور کیا جارہا ہے ،  اس کے برعکس شہد، دودھ ، کھجور جوکہ ہمارے آقاﷺ کی پسندیدہ غذاؤں میں شامل ہیں انہیں استعمال کرنے میں ایک قسم کی ہچکحاہٹ محسوس کی جارہی ہے ۔صحت کی حفاظت عقلمندی کی ایک علامت ہے او ر اسکے لئے صحت بخش غذائیں جن میں شہد ، دودھ ، کھجور کے علاوہ ترکاریاں، میوے ، خشک میووں کا استعمال اور ہلکی پھلکی ورزش وقت کی ضرورت ہے ۔



اب ایک سوال ہم سب کو اپنے آپ سے کرنا ہے کہ کہیں ہم خود کو مارڈن ظاہر کرنے کی کوشش میں جنک فوڈ سے اپنے پیٹ کو بھرتے ہوئے بیماریوں اور آخر میں کینسر جیسی مہلک بیماری کو گلے لگانے کےلئے روز آنہ ایک قدم بڑھا رہیں ہیں  یا پھریہ صحت بخش غذاؤوں کا استعمال کرتے ہوئے عقل کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں ۔بس خود کا یہ احتساب کرلیا جائے کہیں خود کو مارڈن ظاہر کرنے کی کوشش میں ہم بیماریوں کو گلے لگا رہے ہیں یا صحت بخش غذاؤوں کے استعمال سے عقل مند ہونے کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے