اردو ہماری مادری زبان ہے جس سے ہمیں نہ صرف محبت ہے بلکہ اس کی ترقی اور ترویج کےلئے ہم اپنے طور پر کوشش بھی کرتے ہیں جبکہ ہر اردو بولنے والے کے دل میں کم از کم اتنا احساس تو ہوتاہے کہ وہ مادری زبان کی ترقی پر خوش اور اس کے نقصان پر مایوس تو ضرور ہوتا ہے۔

اردو ہماری تاریخ اور تہدیب کی ترجمان ہے ۔ اسلامی تعلیمات کا ایک بیش بہا سرمایہ بھی اسی زبان میں موجود ہے لیکن آج اس ترقی یافتہ دور میں اردوکو کئی ایک چیلنجز درپیش ہیں جس میں ایک بڑا چیلنج ٹکنالوجی کے دور میں خودکی بقاءکی جنگ لڑنا ہے۔ 

اردورسم الخط میں صدیوں قدیم تاریخ، زبان، ادب اور سائنسی علوم کا سرمایہ ضخیم کتابوں کی شکل میں کتب خانوں،مدارس اور انفرادی طور پر اردو کے شیدائیوں کے مکانات میں موجود و محفوظ ہے لیکن اب چونکہ یہ دور سائبر ٹکنالوجی کا دور ہے اور آج کے دورکا طالب علم و نوجوان اپنے مطلوبہ مواد کی تلاش کےلئے کتب خانوں کی دہلیز چڑھنے اورکتابوں کی ورق گردانی کرنے کی بجائے گوگل سرچ کو ترجیح دیتا ہے لہذا اردوکی سائبر ترقی میں یہ ہی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ اردوزبان ، ادب اور تاریخ کے علاوہ ہر اس تحریر کو جوکہ اردو رسم الخط میں موجود ہے اسے سائبر دنیا کا حصہ بنایا جائے۔

ویسے تو اردومواد کو سائبر دنیا کا حصہ بنانے میں کئی ایک اداروں کے علاوہ انفرادی طور پر کئی افراد اپنے ویب سائٹ اور بلاگز کے ذریعہ خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں صرف حیدرآباد سے ہی میرے جاننے والوں میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے استاد محترم ڈاکٹر فضل اللہ مکرم (جہان اردو ویب سائٹ)، این ٹی آرگورنمنٹ کالج محبوب نگر کے استاد محترم ڈاکٹر اسلم فاروقی ، تعمیر نیوزڈاٹ کام کے بانی مکرم نیاز صاحب قابل ذکر ہیں جوکہ سائبر دنیا میں ویب سائٹس اور بلاگز کے ذریعہ اردوکی سائبر ترقی میں اپنا کردار خاموش سپاہی کے طور پر انجام دے رہے ہیں جبکہ اس فہرست میں محترم اعجازعبید (بزم اردو لائبریری ) کا نام ناقابل فراموش ہے ۔
 
جیسا کہ لکھا جاچکاہے کہ آج کا طالب علم گوگل تلاش کو ترجیح دیتاہے تو آج کے اہل قلم کو اخبارات اور رسائل میں اپنی تحریروں کو شائع کروانے کے ساتھ اپنے ویب سائٹ اور بلاگز پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ مقولہ مشہور ہے کہ ” اخبار کی عمر ایک دن کی ہوتی ہے“ جبکہ رسائل ہفتہ واری، پندرہ روزہ یا ماہانہ کی اساس پر شائع ہوتے ہیں جن کی اپنی جگہ اہمیت مسلمہ ہے لیکن جب عالمی تناظر میں مواد کی دستیابی کا سوال ہوتا ہے تو کاغذی ذرائع دم توڑدیتے ہیں لہذا ضروری ہوچکا ہے کہ اب اردو زبان ، ادب اوردیگر علوم کو” ورق سے برق “ کی ترقی کی راہیں ہموار کی جائیں-

سائبر اردو کا تعارف

سائبر اردو شاید اردو داں طبقہ کےلئے نئی اصطلاح ہو لیکن دانستہ یا نادانستہ طورپر وہ اردو کی اس نئی شکل سے واقف ہی ہیں۔ ماضی میں ہم اردو رسم الخط میں اپنے خیالات ، تخلیقات اور تحریروں کےلئے قلم اورکاغذ سہارا لیتے تھے اور آج بھی لیتے ہیں اور ان کی حصول وہ ترسیل کےلئے ڈاگ کے روایتی طریقوں کو استعمال کرتے تھے لیکن آج کاغذ کی جگہ کمپیوٹر اور اسمارٹ فون نے لے لی ہے اور قلم کی جگہ کی بورڈ کے سینکٹروں بٹن استعمال ہونے لگے ہیں اور تحریر کا یہ نیا انداز ہمیں سائبر اردو سے متعارف کرواتا ہے۔

کمپیوٹر میں ان پیچ یا ایم ایس ورڈ ، اسمارٹ فونز میں اردو ایپس کے ذریعہ اردو رسم الخط میں جن خیالات کو تحریری شکل دینے کے بعد اسے انٹرنیٹ کی سہولت سے حصول وترسیل کے قابل بنایا جاتاہے یہ ہی سائبر اردو ہے ۔ کمپیوٹریا موبائل کی اسکرین پر تیار کی جانے والی اردو تحریر جو انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا کے کسی بھی کونے میں پڑھی جانے کے علاوہ گوگل سرچ کے ذریعہ برسوں بعد بھی قابل تلاش رہے وہی سائبر اردو ہے۔

اردوکی ترقی کا دل میں احساس رکھنے والے ہر استاد ، طالب علم اور صحافی کے علاوہ ہر اس شخص کو سائبر اردوکو اپنانا ہوگا جوکہ اردو کی ترقی کےلئے صرف احساس نہیں بلکہ عملی اقدام کا جذبہ رکھتا ہو۔ آئیے اس نئے سال میں ہم عہد کریں کہ سائبر اردو کے ذریعہ ہم اپنی زبان کی ترقی اور ترویج میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

نوٹ : جو افراد اردو کی ترقی کا ایسا ہی جذبہ رکھتے ہوں وہ اپنی تخلیقات (ادب ، تاریخ اور دیگر علوم ) اس بلاگ پر شائع کرنے کےلئے راقم الحروف کو روانہ کرسکتے ہیں جوکہ ان پیچ یا پھر یونی کوڈ میں ہوں ، اس کے علاوہ سائبر دنیا کے معروف مندرجہ بالا حضرات کے ویب سائٹس پر بھی اپنی تحریریں روانہ کرتے ہوئے اردوکی سائبر ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ قارئین اس بلاگ پر اپنی تحریریں شائع کروانے کےلئے مجھے ان پیچ یا یونی کوڈ فارمیٹ میں مواد اس میل پر روانہ کرسکتے ہیں۔

Dr.ehteshamulhasan@gmail.com